encyclopedia

تعارفِ حضرت یعقوب علیہ السلام – بنی اسرائیل کا برگزیدہ نبی

Published on: 18-Jun-2026
تعارفِ حضرت یعقوب علیہ السلامنسب اور خاندانی پس منظرحضرت یعقوب علیہ السلام سلسلۂ ابراہیمی کے ممتاز نبی، حضرت اسحاق علیہ السلام کے فرزند اور بنی اسرائیل کے جدِّ امجدہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے "اسرائیل" کا لقب عطا فرمایا۔ازدواجی زندگی اور اولادتورات کے مطابق آپ علیہ السلام نے لیئہ، راحیل، زلفا اور بلہاہ سے نکاح کیا، جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل وجود میں آئے۔ہجرت اور آخری ایامفدانِ ارام میں قیام کے بعد آپ علیہ السلام کنعان واپس لوٹے، پھر حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر مصر تشریف لے گئے اور وفات کے بعد فلسطین میں دفن کیے گئے۔کتابِ مقدس کا تاریخی بیانتورات میں ولادت، خاندان، نکاح، لقبِ اسرائیل، اولاد، مصر کی ہجرت، وصیت اور تدفین کے واقعات تفصیل سے مذکور ہیں۔
LanguagesEnglish

حضرت یعقوب Alaihis Salam، حضرت اسحاق Alaihis Salamکے فرزند اور حضرت ابراہیمAlaihis Salam کے پوتے تھے۔ آپ Alaihis Salam ہی کو اسرائیل کا لقب عطا ہوا، اور آپ Alaihis Salam ہی کی اولاد سے بنی اسرائیل کے تمام قبائل وجود میں آئے۔ آپ Alaihis Salam نہایت باوقار، صاحبِ کردار اور پاکیزہ سیرت والے نبی تھے۔ 1 کتاب مقدس جب حضرت اسحاق Alaihis Salam نے 40 برس کی عمر میں رِفقا بنت بتوئیل سے نکاح کیا تو ابتدائی عرصے میں رِفقا بانجھ تھیں، مگر حضرت اسحاق Alaihis Salam کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں جڑواں بیٹوں کی نعمت عطا فرمائی۔ ایک بیٹے کا نام عیصو (Esau)رکھا گیا جو اہلِ روم کا جدِّ امجد شمار ہوتا ہے، جبکہ دوسرے بیٹے کا نام یعقوب Alaihis Salam رکھا گیا جو بنی اسرائیل کے جدِّ امجد ہیں۔ پہلوٹا ہونے کی بنا پر اسحاق Alaihis Salam کو عیصو سے زیادہ محبت تھی، اور یعقوب Alaihis Salam اپنی کم سنی اور نرم خو فطرت کی وجہ سے اپنی والدہ رِفقا کے زیادہ محبوب تھے۔ 2

حضرت یعقوب Alaihis Salam کے نکاح

تورات کے مطابق ان دونوں بھائیوں کے درمیان چپقلش تھی جس کی وجہ سے یعقوب Alaihis Salam اپنی والدہ کے اشارہ پر فدان ارام(Paddan Aram) اپنے ماموں لامان کے پاس چلے گئے۔ لامان نے ان سے یہ عہد لیا کہ وہ 10 سال ان کےیہاں رہ کر ان کی بکریاں چرائیں تو وہ اس مدت کو مہر قرار دے کر اپنی لڑکی سے ان کی شادی کردیں گے۔ جب حضرت یعقوب Alaihis Salam نے مدت پوری کردی تو لابان نے اپنی لڑکی لیئہ سے ان کا نکاح کرنا چاہا مگر یعقوب Alaihis Salam نے اپنا رجحان طبع چھوٹی لڑکی راحیل(Rachel) کی جانب ظاہر کیا۔ لابان نے یہ عذر کیا کہ یہاں کے دستور کے مطابق بڑی لڑکی کے نکاح سے قبل چھوٹی لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ لابان نےحضرت یعقوب Alaihis Salam سے کہا کہ تم اس رشتہ کو منظور کرو، اور اپنے قیام کو 10 سال اور طویل کرو اور میری خدمت میں رہو تو راحیل بھی تمہارے نکاح میں دی جاسکے گی کیونکہ اس زمانے میں دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں جمع ہونا شرعاً ممنوع نہ تھا۔ چنانچہ حضرت یعقوب Alaihis Salam نے اس مدت کو بھی پورا کردیا، اور راحیل سے بھی شادی کرلی۔ ان دونوں کے علاوہ لیئہ کی خانہ زاد زلفا اور راحیل کی خانہ زاد بلہا بھی ان کی زوجیت کے رشتے میں منسلک ہوگئیں اور ان سب سے اولاد ہوئی۔ بنیامین کے علاوہ حضرت یعقوب Alaihis Salam کی تمام اولاد اپنے ماموں کے ہاں ہی پیدا ہوئی اور جب آپ Alaihis Salam وطن واپس آگئے تو یہاں بنیامین پیدا ہوئے۔ لابان نے حضرت یعقوب Alaihis Salam کو 20 سال اپنے پاس رکھنے کے بعد بہت سا مال ومتاع اور ریوڑ دے کر رخصت کیااور یوں حضرت یعقوب Alaihis Salam اپنے دادا کے دار الہجرت فلسطین میں آگئے۔ 3

حضرت یعقوب Alaihis Salam کا انتقال

اس کے بعد حضرت یعقوب Alaihis Salam اپنے آبائی وطن کنعان ہی میں رہائش پذیر رہے۔ 4 یہاں تک کہ جب یوسف Alaihis Salam مصر کے وزیر خزانہ مقرر ہوئے توحضرت یعقوب Alaihis Salam اپنے خاندان سمیت مصر تشریف لے گئے۔ 5 حضرت یعقوب Alaihis Salam نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری 17 برس مصر میں گزارے اور 140 سال کی عمر میں وفات پائی۔ وفات سے قبل آپ Alaihis Salam نے اپنے فرزندِ ارجمند یوسف کو وصیت فرمائی کہ انہیں اپنے آباء و اجداد کے پہلو میں سرزمینِ فلسطین میں دفن کیا جائے۔ چنانچہ حضرت یوسف Alaihis Salam نے مصر کے بادشاہ سے باقاعدہ اجازت حاصل کی اور ملک کے معززین و بزرگوں کے ہمراہ ایک باوقار قافلے کی صورت میں آپ Alaihis Salam کے جسدِ مبارک کو فلسطین منتقل کیا، جہاں آپ Alaihis Salam کو حبرون کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 6

تورات میں حضرت یعقوب Alaihis Salam کا ذکر

تورات میں حضرت یعقوب Alaihis Salam کی حیات و سیرت نہایت تفصیل کے ساتھ مذکور ہے، جس میں آپ Alaihis Salam کی ولادت، عیصو کے ساتھ تعلقات، والدین کی تربیت، حضرت اسحاق Alaihis Salam کی دعائیں، لابان کے ہاں قیام، بیویوں اور اولاد کا ذکر، بنی اسرائیل کے 12 قبائل کی تشکیل، اور آخر میں مصر کی طرف ہجرت جیسے اہم واقعات شامل ہیں۔ چنانچہ سفر پیدائش میں ہے:

اضحاق (اسحاق علیہ السلام) 40 برس کا تھا جب اس نے ربقہ (رفقا) سے بیاہ کیا جو فدّان ارام کے باشندہ بیتو ایل ارامی کی بیٹی اور لابن ارامی کی بہن تھی۔ اضحاق علیہ السلام نے اپنی بیوی کے لیے خداوند سے دعا کی کہ وہ بانجھ تھی۔ خداوند نے اس کی دعا سنی اور اس کی بیوی ربقہ حاملہ ہوئی۔ 7 جب اس کی زچکی کا وقت آگیا تب پتہ چلا کہ اس کے رحم میں جڑواں بچے ہیں۔ جو پہلے پیدا ہوا وہ سرخ تھا اور اس کا سارا جسم بالوں سے بُنے ہوئے کپڑے کی طرح تھا۔ اس لیے انہوں نے اس کا نام عیسو رکھا۔ اس کے بعد اس کا بھائی پیدا ہوا جو اپنے ہاتھ سے عیسو کی ایڑی پکڑے ہوئے تھا اس لیے اس کا نام یعقوب علیہ السلام رکھا گیا (عقب عبرانی میں ایڑی کو کہتے ہیں)۔ جب ربقہ نے ان دونوں کو جنم دیا تب اضحاق علیہ السلام 60 برس کا ہوچکا تھا۔پھر لڑکے بڑے ہوگئے اور عیسو ماہر شکاری بن گیا، اسے کھلی جگہ میں رہنا پسند تھا۔ اور یعقوب علیہ السلام خاموش طبع انسان تھا ، اسے خیموں میں رہنا اچھا لگتا تھا۔ 8 اضحاق علیہ السلام نے یعقوب علیہ السلام کو بلایا اور اسے برکت دی اور حکم دیا کہ تو کسی کنعانی لڑکی سے بیاہ نہ کرنا۔ فورا ً فدّان ارام کو اپنے نانا بیتوایل کے گھر چلا جا اور وہاں اپنے ماموں لابن کی بیٹیوں میں کسی سے بیاہ کرلے۔ قادرِ مطلق خدا تجھے برکت دے، تجھے برومند کرے اور تیرے گھر والوں کی تعداد اس قدر بڑھائے کہ ایک قوم وجود میں آجائے۔ 9وہ تجھے اور تیری نسل کو ابراہام علیہ السلام کی سی برکت دے تاکہ تو اس ملک کو جہاں تو اس وقت پردیسی کے طورپر رہتا ہے اور جسے خدا نے ابرہام علیہ السلام کو بخشا تھا، اپنے قبضہ میں لے آئے۔ 10 یعقوب علیہ السلام بیر سبع سے نکل کر حاران کی طرف چل دیا۔ 11 اور یعقوب علیہ السلام نے اپنا سفر جاری رکھا اور وہ مشرق میں رہنے والے لوگوں کے ملک میں جا پہنچا۔ 12 جو نہی لابن کو اپنے بھانجے، یعقوب علیہ السلام کی خبر ملی، وہ اس سے ملنے کو دوڑا۔اس نے اسے گلے سے لگایا اور چوما اور اسے اپنے گھر لے آیا اور وہاں یعقوب علیہ السلام نے اسے ساری باتیں بتائیں۔ تب لابن نے اس سے کہا تو میرا اپنا گوشت اور خون ہے۔ 13 لابن کی دو بیٹیاں تھیں، بڑی کا نام لیاہ تھا اور چھوٹی کا نام راخل۔لیاہ کی آنکھیں کمزور تھیں لیکن راخل سڈول اور خوبصورت تھی۔ یعقوب علیہ السلام راخل سے محبت کرتا تھا۔ لہٰذا اس نے (لابن سے) کہا کہ میں تیری چھوٹی بیٹی راخل کے لیے سات برس تیری خدمت کروں گا۔لابن نے کہا : اسے کسی اور آدمی کو دینے کی بجائے بہتر ہے کہ میں اسے تجھے دے دوں، لہٰذا تو میرے یہاں ٹِک جا۔ چنانچہ یعقوب علیہ السلام سات برس تک راخل کی خاطر خدمت کرتا رہا لیکن راخل کی محبت میں وہ سات برس اسے سات دن کے برابر معلوم ہوئے۔ تب یعقوب علیہ السلام نے لابن سے کہا کہ مجھے میری بیوی دے دے تاکہ میں اس کے پاس جاؤں کیونکہ خدمت کی میعاد پوری ہو چکی ہے۔ 14 لابن نے جواب دیا کہ ہمارے ہاں یہ رواج نہیں کہ بڑی بیٹی سے پہلے چھوٹی بیٹی کی شادی کر دی جائے۔اس بیٹی کا ہفتہ عرسی پورا کر، تب ہم چھوٹی بھی تجھے دے دیں گے لیکن تجھے اس کے عوض مزید 7 برس کا م کرنا ہوگا۔ اور یعقوب علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ اس نے لیاہ کے ساتھ ایک ہفتہ (یعنی سات برس کا عرصہ) پورا کیا تب لابن نے اپنی بیٹی راخل بھی اس سے بیاہ دی۔ 15 راخل نے (یعقوب علیہ السلام سے) کہا : دیکھ میری خادمہ بلہاہ حاضر ہے ۔ اس کے پاس جا تاکہ میرے لیے بھی اس سے اولاد ہو اور اس کے ذریعے میں بھی ایک خاندان قائم کر سکوں گی۔چنانچہ اس نے اپنی خادمہ بلہاہ کو یعقوب علیہ السلام کو دیاتاکہ وہ اس کی بیوی بنے۔ 16 جب لیاہ نے دیکھا کہ آیندہ(4 بیٹے پیدا ہونے کے بعد) اس کی اولاد نہیں ہوگی تو اس نے اپنی خادمہ زلفہ کو یعقوب علیہ السلام کو دیا کہ اس کی بیوی بنے۔ 17 لابن کے بیٹوں کی کئی باتیں یعقوب علیہ السلام کے سننے میں آئیں۔مثلاً یہ کہ یعقوب علیہ السلام نے ہمارے باپ کا سب کچھ لے لیا ہے اور جو کچھ ہمارے باپ کا تھا اسی میں سے لے لے کر یہ سب دولت جمع کی ہے۔ اور یعقوب علیہ السلام نے دیکھا کہ اب لابن کا رویہ پہلے جیسانہ تھا۔ تب خداوند نے یعقوب علیہ السلام سے کہا :تو اپنے باپ دادا کے ملک کو اور اپنے رشتہ داروں کے پاس لوٹ جا اور میں تیرے ساتھ رہوں گا۔ 18 فدّان ارام سے آنے کے بعد یعقوب علیہ السلام صحیح سلامت ملک کنعان میں سکم کے شہر تک پہنچا اور شہر کے نزدیک ہی خیمہ زن ہو گیا۔ 19 تب خدا نے یعقوب علیہ السلام سے کہا :بیت ایل لوٹ جا اور وہیں بس جااور وہاں خدا کے لیے، جو تجھے اس وقت دکھائی دیا تھا جب تو اپنے بھائی عیسو سے بھاگا جارہا تھا ، ایک مذبح بنا۔ 20 اور خدا نے اس سے کہا : تیرا نام یعقوب علیہ السلام ہے لیکن آیندہ تو یعقوب علیہ السلام نہ کہلائے گا۔ تیرا نام اسرائیل ہوگا ۔ سو اس نے اس کا نام اسرائیل رکھا۔ 21 یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے: ان میں سے لیاہ کے یہ بیٹے تھے: روبن (یعقوب علیہ السلام کا پہلوٹھا)، شمعون، لاوی، یہوداہ، اشکار اور زبولون۔ اور راخل کے بیٹے یوسف علیہ السلام اور بن یمین تھے۔ راخل کی خادمہ بلہاہ کے بیٹے دان اور نفتالی تھے۔ اور لیاہ کی خادمہ زلفہ کے بیٹے جد اور آشتر تھے۔ یہ سب یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے جو اس سے فدان ارام میں پیدا ہوئے تھے۔ 22 یعقوب علیہ السلام (یوسف علیہ السلام کے بلاوے پر ) بیر سبع سے روانہ ہوا اور یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اپنے باپ یعقوب علیہ السلام اور اپنے بال بچوں اور اپنی بیویوں کو ان گاڑیوں میں لے کر گئے جو فرعون نے ان کی سواری کے لیے بھیجی تھیں۔ اور وہ اپنے مویشیوں اور سارے مال واسباب کو بھی ساتھ لے گئے جو انہوں نے ملک کنعان میں جمع کیا تھا اور یعقوب علیہ السلام اپنی ساری اولاد سمیت مصر چلا گیا۔ 23 یعقوب علیہ السلام نے (آخری ایام میں اپنے بیٹوں کو جمع کر کے ) ان سے کہا کہ میں اب جلد ہی اپنے لوگوں میں جا ملوں گا۔ مجھے اپنے باپ دادا کے ساتھ اس غار میں دفن کرنا جو حتی عفرون کے کھیت میں ہے۔ 24 جب یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کو وصیت کر چکا تو اس نے اپنے پاؤں بستر پر سمیٹ لیے اور آخری سانس لی اور اپنے لوگوں میں جا ملا۔ 25 چنانچہ یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے ویسا ہی کیا جیسا اس نے انہیں حکم دیا تھا۔ وہ اسے ملک کنعان لے گئے اور اسے ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے کھیت کے اس غار میں دفن کیا جسے ابرہام علیہ السلام نے حتی عفرون سے کھیت سمیت قبرستان کے لیے خریدا تھا۔ 26

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت یعقوب Alaihis Salamسلسلۂ ابراہیمی کے ایک عظیم المرتبت نبی، بنی اسرائیل کے جدِّ امجد اور اس مبارک خانوادے کی مرکزی شخصیت ہیں جن کی اولاد میں کثیر انبیاء Alaihmus Salam اتشریف لائے۔ قرآنِ مجید نے آپ Alaihis Salam کا ذکر ایمان، صبر، توحید، وصیتِ دینی اور تسلیم و رضا کے نمایاں پہلوؤں کے ساتھ کیا ہے، جبکہ کتاب مقدس میں آپ Alaihis Salam کی ولادت، خاندانی حالات، نکاح، اولاد، لقبِ اسرائیل، کنعان سے مصر ہجرت، وصیت اور تدفین کے واقعات نسبتاً تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت یعقوب Alaihis Salam سے نبی آخر الزماں Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد سے متعلق متعدد بشارات بھی منقول ہیں، جن کے آثار کتابِ مقدس کے موجودہ متن میں پائے جاتے ہیں۔ ان بشارات کی تفصیلی تحقیق "بشاراتِ حضرت یعقوب " نامی مقالہ میں پیش کی جائے گی۔


  • 1  أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري، المعارف، ج-1، مطبوعة: الهيئة المصرية العامة للكتاب، القاهرة، مصر، 1992م، ص: 39
  • 2  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-1، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 297
  • 3  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-1،مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 200
  • 4  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، جامع البيان عن تأويل آي القرآن المعروف بتفسير الطبری، ج-13، مطبوعة: دار هجر، الجيزة، مصر، 2001م، ص: 362
  • 5  أبو عبد اﷲ محمد بن عمر فخر الدین الرازي، مفاتیح الغیب المعروف بتفسير الرازي، ج-18، مطبوعة: دار إحیاء التراث العربي، بیروت، لبنان، 1420هـ، ص: 509
  • 6  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-1، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 357 - 358
  • 7  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش25 : 20-21 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 23)
  • 8  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش25 : 24-27 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 23)
  • 9  تورات کے موجودہ تحریف شدہ نسخے میں یعقوب علیہ السلام اور عیسو کے درمیان پیش آنے والی جس چپقلش کا ذکر کیا جاتا ہے،بالخصوص اس واقعہ کا کہ اسحاق علیہ السلام نے عیصو سے شکار طلب کیا اور یعقوب علیہ السلام نے بکری ذبح کرکے اپنے والد کے سامنے پیش کی اور نعوذ باللہ خود کو عیصو ظاہر کیا۔ (کتابِ مُقدس، سفر پیدائش27: 1-46 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 25-27) یہ بیانیہ اسلامی عقیدہ و اصولِ نبوت کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں، یعنی گناہِ کبیرہ تو دور کی بات، جھوٹ جیسے افعال بھی ان کی شانِ نبوت کے منافی ہیں۔ چنانچہ تورات کے اس بیان کو اہلِ علم نے یہود کی بعد ازاں کی گئی تحریفات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔(محمد رحمت اللہ کیرانوی (مترجم: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل عارفی)، ازالۃ الاوہام، ج-1، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم، کراچی، پاکستان، 2010ء، ص: 125-126)
  • 10  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش28: 1-4 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 11  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش28: 10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 12  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 1 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 13  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 13-14 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 28)
  • 14  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 16-21 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 28)
  • 15  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 26-28 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 28)
  • 16  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش30: 3-4 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 29)
  • 17  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش30: 9 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 29)
  • 18  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش31: 1-3 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 30)
  • 19  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش33: 18 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 34)
  • 20  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 1 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 35)
  • 21  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 35)
  • 22  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 23-26 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 36)
  • 23  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش46: 5-6 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 48-49)
  • 24  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش49: 29 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 53)
  • 25  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش49: 33 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 53-54)
  • 26  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش50: 12-13 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 54)